اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی کامیابی نے خطے میں امریکی فضائی دفاعی نظام کی مؤثریت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عسکری تجزیوں کے مطابق ایران کے حالیہ حملوں میں اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جسے مغربی ذرائع بھی مختلف انداز میں تسلیم کر رہے ہیں۔
امریکی اور مغربی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں اس کامیابی کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔ ان میں ایرانی ہائپرسونک میزائلوں کی غیر معمولی رفتار اور دورانِ پرواز سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کو بنیادی عوامل قرار دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔
تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خیبر شکن اور فتاح-1 جیسے جدید میزائل آخری مرحلے میں بھی اپنی پرواز کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ان کی روک تھام مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مغربی حلقے ایران کی بڑھتی ہوئی ہدف شناسی کی صلاحیت کو چینی تجارتی سیٹلائٹ TEE-01B اور ایرانی سیٹلائٹ خیام سے حاصل ہونے والی تصاویر سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ان سیٹلائٹس کی مدد سے ایران اہداف کی نشاندہی، حملوں کے نتائج کا جائزہ اور آئندہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی زیادہ مؤثر انداز میں کر رہا ہے۔
ادھر عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکہ کے بعض اہم ریڈار اور نگرانی کے نظام بھی حالیہ حملوں میں متاثر ہوئے ہیں، جن میں قطر میں نصب طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا AN/FPS-132 ریڈار اور اردن میں THAAD میزائل دفاعی نظام کے بعض ریڈار شامل ہیں۔ ان تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے بعد امریکی ابتدائی انتباہی نظام کی صلاحیت محدود ہوگئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ